آدھی ملاقات

بچوں کو اسکول بھیجیے: حکیم محمد سعید نے ایک ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا

حکیم محمد سعید  کی  صاحبزادی اور ہمدرد فاؤنڈیشن کی روحِ رواں سعدیہ راشد سے آدھی ملاقات

نوٹ: طب مشرق کے احیاء، تعمیر و استحکام وطن، تعمیر اذہان ملت، نونہالوں کی تعلیم و تربیت، نوجوان نسل کے لیے فکری فورم، حفظ صحت کا شعور بیدار کرنے کے لیے سپاہ صحت، اخلاقی قدروں کے فروغ کے لیے آواز اخلاق، لائبریریوں کے فروغ، علم و عالم کی قدر دانی، قرآن و سیرت کانفرنسوں کا اجراء، مسلم سائنس دانوں کے کارناموں کی اشاعت، کتابوں کے تراجم کے علاوہ کئی قومی و ملی تحریکیں شروع کرنے والے حکیم محمد سعید کا شمار اْن عظیم المرتبت افراد میں ہوتا رہے گا جن کا مقصد حیات خدمت خلق اور تعمیر پاکستان رہا۔ ان کے شخصی اوصاف اور ملی خدمات کا احاطہ کرنے کے لیے ایک دفتر درکار ہے، 15 نومبر 2017ء کو حکیم محمد سعید  کی صاحب زادی اور ہمدرد فاؤنڈیشن کی  روح رواں محترمہ سعدیہ راشد نے ایکسپریس نیوز کو دیے جانے والے انٹرویو میں اپنے حالات زیست اور حکیم صاحب کے حوالے سے اپنی یادوں کو تازہ کیا، اس انٹرویو کا اہتمام رضوان طاہر مبین اور اشرف میمن  نے کیا تھا،   چونکہ جنوری حکیم محمد  سعید کی سالگرہ  کا مہینا ہے لہذا اس انٹرویو کو ہم ادارہ ایکسپریس نیوز  کے شکریے کے ساتھ روشنی میگزین میں پیش کر رہے  ہیں۔ (ادارہ)

٭٭٭٭٭

بائیس برس پہلےانہوں نے 70 ہزار دولت مندوں کو خط لکھے، گِریہ کیا ملک کے ساڑھے چار کروڑ بچے (اُس وقت کے مطابق) اسکول نہیں جاتے، حضور! بس اتنا کیجیے کہ جن نونہالوں کو ملازم رکھا ہے، صرف انہی کو اسکول بھیج دیا کیجیے۔ فقط11 جواب آئے، جس میں بھی سات جواب نفی میں تھے، وہ ببانگ دہل کہتے، اقتدار کے عالی شان ایوانوں کو جامعات بنادو اور سرکاری امور فیصل مسجد سے چلاؤ۔ انہوں نے حقیقتاً  گنگا اور جمنا سے وضو کیا، کہتے، میں یہ کبھی فراموش نہیں کر سکتا کہ صرف پاکستان کے لیے سب کچھ چھوڑا،  یہاں اسکول میں نوکری سے زندگی آگے دھکیلی، انہوں نے خود کو سادگی اور بلند اخلاق و کردار کی عملی مثال بنا کر دکھایا، نئی نسل اُن کا خاص مخاطب، بے شمار سفرنامے اور کتابیں لکھیں جس میں کسی شفیق بزرگ کی طرح اُن کی اخلاقی، سماجی اور سیاسی تربیت کرتے اور زندگی کی کارآمد باتیں بھی گوش گزار کراتے۔ یہ لاکھوں نونہال قاری اُن کے ہم راز ہوئے، جن سے وہ اپنے دکھ بھی کہتے اور خوشیاں بھی بانٹتے۔ اپنی کوتاہی پوشیدہ رکھتے اور نہ غلطیوں کے اظہار سے چُوکتے۔ ‘ایک ناشتا، ایک کھانا’  تحریک سے لے کر ‘ٹشو پیپر’  جیسی معمولی شے پر بھی نونہالوں کو بتاتے کہ خیال کرنا یہ پیڑ پودوں کا خون کر کے بنتا ہے۔ کبھی تو ایسا معلوم ہوتا، جیسے  ‘سماجی سانپوں’  کا ڈسا ہوا  کوئی  فرد  اُن سارے سنپولوں کے نقاب نوچ رہا ہو اور ساتھ اُس کے زہر کا تریاق بھی بتاتا جا رہا ہو۔ یوں تو وہ کبھی بدلہ نہ لیتے تھے، لیکن اُن کے انتقام کا یہ چلن سماج دشمنوں کو اپنے بے دم ہوتے مستقبل کی خبر دینے لگا تھا، اس لیے انہیں ہمیشہ کے لیے خاموش کرا دیا گیا۔

یہ حکیم محمد سعید تھے، اُس روز جن کی ابدی خامشی 24 ویں ماہ میں تھی۔  ہم مقررہ وقت پر ادارۂ ہمدرد کے مرکزی  دفتر پہنچنے کے بعد محوخیال تھے کہ کواڑ کھُلا اور انہوں نے بہ نفس نفیس خود ہمیں خوش آمدید کہا۔ ہمیں لگتا تھا کہ کوئی قاصد ہمیں اُن کا سندیس دے گا اور ہم شرف ملاقات کو  لے جائے جائیں گے لیکن انہوں  نے عظمت کا مظاہرہ کیا اور خود تشریف لائیں۔ اب ہم حکیم محمد سعید کو ان کی باکمال صاحب زادی سعدیہ راشد کے روپ میں دیکھ رہے تھے، جو اب ‘ہمدرد’ کی صدر ہیں اور انہوں نے اپنے والد کے خوابوں میں حتی الامکان کوئی رخنہ نہ پڑنے دیا۔  سادگی و متانت کے اس پیکرسے گفتگو میں کہیں بھی کسی فخر، تصنع یا بناوٹ کا شائبہ نہ ہوا۔ وہ ایک طرف قارئین  کی مہمان تھیں، تو دوسری طرف ماضی کے ایک  ‘نونہال’ کےسامنےگویا بیتے  وقت کے اوراق پلٹے جاتے تھے اور گفتار کے خانے میں اُن کے لفظوں کی سطح بلند ہوتی چلی جاتی تھی۔  وقتاً فوقتاً اس میں اُن کی بیٹی ڈاکٹر ماہم بھی شامل ہوتی رہیں، جو ‘ہمدرد’ کی سینئر نائب صدر ہیں۔

سلسلۂ کلام استوار ہواتو سعدیہ راشد نے بتایا کہ انہوں نے 1946ء میں متحدہ ہندوستان کی راج دہانی دلی میں جنم لیا، بٹوارے کے بعد جنوری 1948ء میں اپنے والد اور والدہ کے ساتھ کراچی آئیں، کہتی ہیں کہ والد نے 12 روپے مہینے کے فرنیچر سے مطب شروع کیا۔ سواری کے پیسے نہ ہوتے، پیدل مطب جاتے آتے۔  ابھی ہمدرد کی دوا سازی اور صنعت کاری کے مراحل دور تھے۔ ادارۂ سعید (مدینۃ الحکمت) میں اُن کے سوراخ زدہ جوتے اور پرانے کپڑے محفوظ ہیں۔ ابتدا میں جب یہاں  ‘روح افزا’ بنایا تو روزانہ گھر آکر شادمانی سے اس کی فروخت کا تذکرہ کرتے۔

ہمدردکی ابتدا پر گفتگو کرتے ہوئے وہ ہمیں اور ماضی میں کافی پرے لے گئیں اور بتایا دراصل ہمدرد کو آگے بڑھانے میں اُن کی دادی کا اہم کردار ہے، جب دادا کا انتقال ہوا، تو حکیم محمد سعید محض دو برس، جب کہ بڑے ابا تایا حکیم عبدالحمید 14 سال کے تھے۔اُن سے بڑی دو بہنیں تھیں، ایسے میں دادی نے ہمدردکے امور  سنبھالے، شروع میں ان کے دو بھائی ساتھ رہے، جو حکمت سے وابستہ تھے، لیکن اس کے بعد سارا کام انہوں نے خود چلایا۔ بچوں کی پرورش میں بھی دادی نے اہم کردار ادا کیا۔ سعدیہ راشد کہتی ہیں کہ اُن کے والد اپنے بڑے بھائی حکیم عبدالحمید کا پرتو تھے، دونوں میں مثالی محبت تھی، جو انہوں نے کسی میں نہیں دیکھی، کراچی میں سعدیہ راشد کے ساتھ دو پھوپھیاں بھی رہتی تھیں۔

ہمدرد کے ماضی کے بعد اب سعدیہ راشد کا عہد کم سنی موضوع ہوا، تو گویا اُن کی نگاہوں کے سامنے ساری کٹھنائیاں گزر گئیں، کہنے لگیں کہ بچپن بہت سختی میں گزارا، ناشتے میں پیٹ بھر لیتے کہ دن میں کھانا نہ پڑے۔ گھر میں میرے علاوہ سب کو دوپہر کو کچھ نہ کھانے کی عادت پڑ گئی۔ آج گھر کے ملازم جب اُن سے کہتے ہیں کہ آپ اتنی سی چیز بھی سنبھال کے رکھ لیتی ہیں، تو بتاتی ہیں کہ انہیں یاد ہے، جب ان کے گھر میں باسی روٹی کے ٹکڑے نوش کیے جاتے،   اُن کی امّی بچنے والی روٹی کے ٹکڑے جمع کر کے پکا لیتیں۔ سعدیہ راشد کے بچپن میں ہی ہندوستان سے اُن کے والد کی گاڑی آ گئی، لیکن پھربھی وہ اسکول بس میں جاتیں۔

ابتداً وہ سینٹ فلومینا اسکول میں پڑھیں جو اب رائسٹ داکنگ چرچ ہے، اس کے بعد سینٹ جوزف اسکول میں داخلہ ہوا، جہاں سے سینئر کیمبرج کیا، جو اب او لیول کہلاتا ہے۔ جامعہ کراچی سے عمرانیات میں ایم اے کیا، امتحانات کے فوراً  بعد شادی ہو گئی، پھر بچوں کی مصروفیات رہیں، چھوٹی بیٹی ابھی  نومولود تھی، جب حکیم محمد سعید نے  کہا کہ  اگر  آپ کو ہمدرد میں کوئی مقام چاہیئے   تواس کے لیے کام کرنا ہوگا، یہ نہیں کہ بیٹھے بیٹھے مل جائے گا۔ شروع میں وہ بچیاں چھوٹی ہونے کا عذر کر کے ٹالتی رہیں، مگر پھر سنجیدگی سے غور کیا اور تقریباً 1981ء میں ہمدرد کا حصہ بن گئیں۔

اپنے حکمت کی طرف نہ آنے کے سوال پر سعدیہ راشد کہتی ہیں کہ مجھے حکیم نہ بننے کا بڑا دکھ ہے۔ شاید اس وقت عربی وفارسی کی ثقیل طبی کتابوں کو انہوں نے مشکل جانا، اب اُن کا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا کہ اُن کی اردو بہت اچھی رہی، اسکول میں بھی اعلیٰ اردوچُنی، جس میں میر امّن، پنڈت چندر ناتھ سرشار، سجاد حیدر یلدرم وغیرہ کو پڑھا۔ کہتی ہیں کہ حکمت نسل درنسل چلنے والی چیز ہےاور اب ہمارے ہاں یہ خلا ہو جائے گا، اُن کا خیال ہے کہ حکیم  محمد سعید ہمدرد کی جدوجہد میں جُتے رہنے کے سبب اس طرف متوجہ نہ ہو سکے کہ انہیں حکمت کی طرف لاتے۔ والد کی مصروفیات کے سبب سعدیہ راشد کے تعلیمی معاملات ان  کے بڑے ماموں اور کراچی میں ہمدرد کے پہلے جنرل منیجر حکیم یحییٰ دیکھتے، کتابیں، کاپیاں اور یونیفارم بھی دلواتے اور رپورٹ کارڈ پر دستخط بھی وہی کرتے۔

ہمدردمیں آنے کے بعد سعدیہ راشد شروع میں تو والد کے ساتھ آتیں، پھر اُن کی آمد سے پہلے دفتر آنے لگیں کہ جب وہ آئیں تو انہیں کام تیار ملے، کمی بیشی کی صورت میں اُن کی خفگی کا اندیشہ ہوتا۔ سعدیہ راشد بتاتی ہیں کہ دفتر میں لوگ حکیم محمد سعید کے ہرے پرچوں سے بہت ڈرتے تھے، کیوں کہ وہ ایک مخصوص سبز پیڈ پر ملازمین کے لیے تعریف، سرزنش یا ہدایات وغیرہ لکھتے۔ گھر سے ڈاک آتی، تو سب پوچھتے کہ آج ہمارے لیے کتنے ہرے پرچے آئے؟  جب تک وہ آتے، ہم اُن کے ہرے پرچے پڑھ کر تیار ہو کر بیٹھ جاتے تھے۔ ہمدرد میں پہلے دن انہیں حکیم  محمد سعید کے سیکریٹریٹ میں بھیجا گیا، ہمدرد کی سینئر کارکن مس ڈی سلوا نے کہا کہ ہمیں یہاں سب کام کرنے ہوتے ہیں، اگر لفافوں میں کاغذ رکھ کر اسٹیپلر بھی کرنا ہوتو ہم وہ بھی کرتے ہیں۔

اس کے بعد سعدیہ راشد ہمدرد کی ایگزیکٹو کوآرڈی نیٹربنیں، پھر انہیں نائب صدر بنایا گیا، حکیم سعید کے دنیا سے جانے کے بعد وہ صدر ہمدرد ہوئیں۔ سعدیہ راشد کو اپنے نائب صدر بننے کا ٹھیک زمانہ تو یاد نہیں، لیکن اندازہ ہے کہ ہمدرد آنے کے پانچ، چھے برس بعد بنیں، جس کے بعد وہ باقاعدہ والد کی ہم رکاب ہوگئیں۔ اکتوبر 1998ء میں ان کی شہادت زندگی کا بہت بڑا صدمہ تھا، لیکن ایک دن کے لیے بھی ہمدرد بند نہیں ہوا۔ ہفتے کو شہادت ہوئی، اتوار کی چھٹی کے بعد  پیر کو معمول کے مطابق دفتر کھل گیا، یہ بڑی اچھی بات تھی۔ کہتی ہیں کہ والد کی شہادت کے بعد ایسا لگا کہ  پانچ سال سے ایک دم 50 سال کی ہو گئی،  ذمے داریاں کاندھوں پر آئیں تو ہمدرد کا مقام اور خدمات برقرار رہنے کی بہت دعائیں کیں۔  حکیم سعید کی شہادت کے اگلے ماہ ڈاکٹر ماہم نونہال اسمبلی میں اپنے نانا کی جگہ شریک ہوئیں، جب کہ سعدیہ راشد نے فروری 1999ء میں پہلی بار اپنے والد کی جگہ اس میں شرکت کی۔

سعدیہ راشد نے بتایا کہ وہ روزانہ پابندی سے اخبارات کا مطالعہ کرتی ہیں۔ ٹی وی بہت کم دیکھتی ہیں اور اس کے مذاکروں کو الجھن کا باعث سمجھتی ہیں۔ جب بھی کتاب خریدیں تو چار نسخے لیتی ہیں، تین بیٹیوں کے لیے اور ایک اپنے لیے۔ تاہم بہت دنوں سے اُن کے مطالعۂ کتب کے لیے وقت نہیں نکل پایا،  ہمدرد کی نمائندگی کی نیت سے مختلف  تقاریب میں شریک ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر ماہم کے بقول اُن کی والدہ  امور خانہ داری اور خاندانی میل جول بھی بخوبی نبھاتی ہیں۔

سعدیہ راشد کے پاس ہمدرد فاؤنڈیشن اور ہمدرد وقف کی ذمے داریاں ہیں، ہفتے میں ایک دفعہ وہ مدینۃ الحکمت بھی جاتی ہیں۔ ایک مہینے راول پنڈی اور لاہور، جب کہ دوسرے ماہ پشاور جاتی ہیں، کبھی خود نہ جا سکیں، تو بیٹی کا ذمہ لگا دیتی ہیں، اُن کی تین بیٹیاں ہیں،   ڈاکٹر ماہم، آمنہ  اور فاطمہ۔ سعدیہ راشد کے شریک حیات وکالت سے وابستہ رہے، اب ریٹائر ہیں، کہتی ہیں کہ سسرالی رشتے دار بھی شوہر سے زیاد ہ انہیں ازبر ہیں۔  اُن کا اب بھی سلائی کڑھائی کو بہت جی چاہتا ہے، اسے وہ پرسکون ہونے کا ذریعہ کہتی ہیں، مگر اب مصروفیات کی بنا پر کوئی بٹن ٹانکے ہوئے بھی عرصہ ہوا۔ لباس شلوار قمیص پسند ہے، بچپن میں دوسرے کپڑے پہننے کی ضد پر ایک دفعہ والد کی ڈانٹ پڑی، تو اس کے بعد کبھی کپڑوں کے معاملے پر ضد نہیں کی۔

 
سعدیہ راشد نے اپنے والد حکیم محمد سعید کو کافی  سخت مزاج پایا۔ بتاتی ہیں کہ انہیں مقررہ وقت پر سونا، اٹھنا اور اپنا کام خود کرنا پسند تھا۔ وہ جتنا دُرشت تھے، والدہ اتنا ہی نرم تھیں، گھر میں والد کا حکم چلتا، ایک ہی ہنڈیا پکتی، کبھی دوسری  چیز پکتی، تو وہ نہ کھاتے۔ تاہم نانا بننے کے بعد اُن کا مزاج کافی دھیما ہو گیا تھا۔ وہ مصروف اور کام کرنے والوں کو پسند کرتے، کاہلی سخت ناپسند تھی، کام کرنے والے لوگ ان کا قُرب پاتے۔ سعدیہ راشد کہتی ہیں کہ حکیم محمد سعید  نے پورے 50 برس ہمدرد کی نذر کیے اور طب یونانی کو ایک مقام دینے کے لیے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) تک میں کوشش کی، ساتھ ہی جدید خطوط پر ادویہ کی تیاری اور پیکنگ پر کام کیا۔ حکیم سعید نے گورنر سندھ بننے کے بعد بھی گھر میں رہائش رکھی،  کہتی ہیں کہ انہیں خود بھی وہاں کا ’لیونگ ہاؤس‘ دیکھنے کی خواہش کبھی نہ ہوئی، لیکن وہاں قائد اعظم محمد علی جناح کی قیام گاہ ضرور دیکھی۔ بطور گورنراُن کے بہت سے کام یہاں کیے جاتے۔ ڈاکٹر ماہم بتاتی ہیں کہ وہ لینے آنے والی گاڑیوں کو بھی ناپسند کرتے۔سعدیہ راشد بتاتی ہیں کہ والد کی شہادت کے وقت تسبیح اور ایک تقریر اُن کے ہاتھ میں تھی، جو مطب کے بعد ایک پروگرام کے لیے لکھی تھی۔ تقریر کے لہوزدہ اوراق ان کی دیگر تحریروں کے ساتھ ادارۂ سعیدمیں محفوظ ہیں،  وہ لکھتے بہت تھے، رات کو اور دوران سفر ان کا قلم جاری رہتا، وہ کہتے کہ بعد میں لکھنے کا وقت نہیں ملے گا اور جو لکھنا ہے، وہ ذہن سے نکل جائے گا۔ حکیم محمد سعید کے قاتلوں کے سوال پر سعدیہ راشد کہتی ہیں کہ اس پر میں کوئی رائے نہیں دیتی، بس جزاو سزا سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ خیال  ظاہر کرتی ہیں کہ انہیں پتہ چل گیا  تھا، تب ہی ہر  کام میں جلدی کرنے لگے تھے، کہتے کہ میرے پاس وقت نہیں ہے۔

سعدیہ راشد کہتی ہیں کہ پہلے ہمدردکی آمدنی قومی انکم کہلاتی تھی، جب کام وسیع ہواتو 1964 میں ہمدردفاؤنڈیشن بنائی، لیکن آپ کبھی ہماری خدمات کا تشہیری مواد نہیں دیکھیں گے۔ہمدرد نصف صدی سے متحرک ہے، لیکن ہمارا کام سامنے نہیں آپاتا۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے ہمدرد کے لیے دو سال قبل پی سی پی سرٹی فکیشن لی گئی۔ ڈاکٹر ماہم کہتی ہیں کہ اچھے کام کا ڈھنڈورا نہیں پیٹنا چاہیے، لیکن لوگوں کے ذہن میں رکھنے کے لیے یہ ضروری ہوا کہ ہمدرد فاؤنڈیشن کی خدمات پتا چلیں،کبھی کسی سے امداد لینے کے بجائے اپنے وسائل خود پیدا کرنا بھی وہ ہمدردکی انفرادیت بتاتی ہیں۔ سعدیہ راشد نے ہمدرد کی خدمات کے تذکرے پر بتایا کہ کراچی، لاہور اور راولپنڈی وغیرہ میں ہماری 21 موبائل ڈسپنسریاں ہیں۔ تعلیمی وظائف اور دیگر مختلف تعمیری اور فلاحی شعبوں کے لیے باقاعدہ اور منظم طریقے سے رقوم مختص ہیں۔ 1997ء میں مدینۃ الحکمت میں ہمدرد ویلیج اسکول قائم ہوا،  پہلے ہمدرد پبلک اسکول میں ان کی شفٹ لگتی تھی، اب علیحدہ عمارت قائم ہے۔ اسکول بنا تو حکیم صاحب نے اس علاقے میں ایک ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹا کر بچوں اور بالخصوص بچیوں کو اسکول بھیجنے پر راضی کیا۔ آج یہاں مدینۃ الحکمت کے قرب وجوار کے 760 بچے زیرتعلیم ہیں۔ انہیں کتابیں، کاپیاں، یونیفارم اور جوتے وغیرہ بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس  کے ساتھ ووکیشنل سینٹر میں بچے اور بچیوں کو سلائی کڑھائی اور بجلی کا کام موبائل کی مرمت وغیرہ کا کام سکھایا جاتا ہے۔ حکیم عبدالحمید کی بیٹی ہر سال سلائی مشین اور سائیکل دیتی ہیں۔ اس بار انہوں نے خواہش کی کہ انہیں اوزاروں کا ڈبا دیا جائے۔ وہ اپنے پس ماندہ علاقوں مختلف تکنیکی کام کر رہے ہیں۔ لڑکوں نے بھی بہت اچھی سلائی سیکھی، ایک دن میں دو جوڑے سی لیتے ہیں۔


سعدیہ راشد کی صاحب زادی ڈاکٹر ماہم کہتی ہیں جب بھی میری صبح چار بجے آنکھ کھلتی، تو مجھے پتا ہوتا تھا کہ اباجان (حکیم  محمد سعید) ضرور جاگ رہے ہوں گے، میں اپنی کتابیں لیے ان کے پاس بیٹھ جاتی اور پڑھتی اور وہ اپنی مصروفیات میں محو رہتے۔ ان دنوں عباسی شہید ہسپتال میں میری ہاؤس جاب کے آخری دن تھے، اکثر ایسا ہوتا کہ وہ مجھے چھوڑتے ہوئے مطب جاتے، شہادت والے روز میں نے تین مرتبہ پوچھا، لیکن انہوں نے منع کیا، ورنہ ایک بار منع کرنے کے بعد دوبارہ نہیں پوچھا جاتا تھا۔ ان دنوں بڑی نانی امّاں (حکیم سعید کی سب سے بڑی بہن) حیات تھیں، رات میں ان کی تیمارداری کے لیے ایک آیا مامور تھی۔ حکیم  محمد سعید کی روانگی کے تقریباً آدھے گھنٹے بعد آیا نے آکر زور زور سے دروازہ پیٹا، تو وہ گھبرائیں کہ بڑی نانی اماں خیریت سے ہوں، لیکن انہوں نے بتایا کہ خان آیا ہے، کہہ رہا ہے کہ حکیم صاحب کو کسی نے شہید کر دیا۔ ڈاکٹر ماہم اسے قوم کی بدقسمتی قرار دیتی ہیں کہ بے لوث خدمت کرنے والے کو قتل کر دیا گیا۔ کہتی ہیں کہ شہادت سے قبل وہ بہت سیاسی بیانات بھی دینے لگے تھے۔ حکیم محمد سعید 19 جولائی 1993ء تا 21 جنوری 1994ء گورنر سندھ رہے۔ عہدہ چھوڑنے کے فوراً بعد اُن کے قتل کی افواہ پھیلی، تو یہ معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ وہ ہیں کہاں؟ ڈاکٹر ماہم بتاتی ہیں کہ انہوں نے حکیم صاحب کے سابق اے ڈی سی اعجاز مظہر کو فون کیا، کہ آپ کہیں سے بھی معلوم کر کے بتائیں۔کچھ دیر بعد انہوں نے  بتایا کہ میں خود دیکھ کر آرہا ہوں، وہ شیرٹن ہوٹل کی تقریب میں بخیریت ہیں۔  ڈاکٹر ماہم بتاتی ہیں کہ نانا ساری زندگی زمین پر سوئے، اس لیے وہ بہت احتیاط سے چلتیں کہ اگر وہ لیٹے ہوئے ہوں گے، تو یہ بات مخل ہوگی۔ یہ عادت ایسی پختہ ہوئی کہ آج بھی پنجوں کے بل چلتی ہیں اور دروازہ بہت آہستگی سے بند کرتی ہیں۔ حکیم  محمد سعید راستے میں چیزیں بیچنے والے بچوں سے خریداری کی تاکید کرتے تاکہ ان کی ہمت بندھے، کہیں وہ مایوس ہو کر ہاتھ پھیلانے پر مجبور نہ ہو جائے۔ سعدیہ راشد کہتی ہیں کہ ہم آج بھی ایسا ہی کرتے ہیں، ورنہ وہ بچے یہ دیکھتے ہیں کہ ہم سے کوئی خرید نہیں رہا، جب کہ بھیک مانگنے والوں کو لوگ دے رہے ہیں۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •