سٹوڈنٹ کونسل الیکشن
الیکشن ہیں یہ بچوں کے ، چنے جائیں گے سفیر مستقبل کے ہیں یہ سربراہ، مستقبل کے ہی مشیر کر رکھی ہیں جو وابستہ، بچوں نے تم
شیئر کریں
الیکشن ہیں یہ بچوں کے ، چنے جائیں گے سفیر مستقبل کے ہیں یہ سربراہ، مستقبل کے ہی مشیر کر رکھی ہیں جو وابستہ، بچوں نے تم
سیدھے سادھے بچے ہیںبچے تو پھر بچے ہیںجب بھی یہ لب کھولتے ہیںپورا سچ ہی بولتے ہیںتھوڑی دیر کو لڑتے ہیںفوراً ہی من جاتے ہیںمل
مجھے ایک ننھا سا بچہ نہ سمجھومجھے اس قدر بھولا بھالا نہ سمجھومجھے کھیلنے کا ہی شیدا نہ سمجھوسمجھتے ہو ایسا تو ایسا نہ سمجھو
پیارا پیارا وطن ہے ہمارا وطن آرزوؤں کا دلکش سہارا وطن اس کی سونااگاتی ہوئی کھیتیاں پگھلی چاندی لٹاتی ہوئی ندیاں سرمئی وادیاں، لہلہاتےچمن اس
مبارک ہو تم کو نیا سال بچو نئے سال میں تم ہو خوش حال بچو نئے ولولے ہوں، نیا شوق پیدا نیا دل میں ہو
ہاتھی آیا، ہاتھی آیا سونڈ میں بھر کے پانی لایا کان ہیں اس کے بڑے بڑے دانت ہیں لمبے کھڑے کھڑے ناک ہے اس کی